جشنِ میلاد النبی ﷺ اور شیطانی گروہ یعنی دیوبندی

0

 



از قلم ................ رفعتؔ برکاتی غفرلہٗ 

پیشکش ......(ماتریدی ریسرچ سینٹر،مالیگاؤں) 


ربیع الاوّل شریف کا وہ فضلیت والا مہینہ آ چکا ہے جس میں سرورِ کائنات ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی، اس مہینے میں مسلمانوں میں مسرت و شادمانی کا جو ماحول ہوتا وہ واقعی دیدنی ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس کچھ لوگ جو مسلمانی کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر حقیقت میں وہ مسلمان نہیں بلکہ شیطانی گروہ ہیں۔


نوٹ: دیوبندیوں کو خود دیوبندی ہی نے "شیطان کا گروہ" کہا ہے۔دیکھئے "مجالسِ ذکر کے نام پر علمائے دیوبند کے خلاف سازشیں، صفحہ ۶، ۲۶، ۲۸۔ 

اور شیطان کے لیے میلاد کیا ہے؟ اس کے متعلق امام محمد بن عبداللہ جزری (متوفی 630ھ) امام ابن جوزی (متوفی 654ھ) علامہ یوسف شامی صالحی (متوفی 942ھ) امام قاضی حسین بن دیار (متوفی 966ھ) علامہ علی قاری ھروی مکی ( 1014ھ) ارشاد فرماتے ہیں: 


” لو لم یکن فی ذلک الا ارغام الشیطان وادعام اھل الایمان 

یعنی مجلس میلاد کا عمل نہیں مگر شیطان کی تذلیل کا سامان اور مسلمانوں کے لیے تقویت ایمان “(المورد الروی للقاری مکی، ص ۱۵، ۱۶)

یہی وجہ ہے کہ یہ شیطانی گروہ اس مہینے کے آتے ہی اپنے جدامجد شیطان مردود اور اپنی تذلیل کو یاد کرکے خود تو غم سے نڈھال ہوتے ہی ہیں مگر اس سعیِ ناسعید میں بھی لگے رہتے ہیں کہ پوری دنیا ہماری ہی طرح غم میں ڈوب جائے، اور ان کے جدامجد شیطان لعین کے نقشِ قدم پر چلیں جو محال ہے، اس شیطانی گروہ کا ہر طبقہ علماء ہو خواہ جہلا سب کے سب عشاقِ مصطفیٰ ﷺ کے معمولات پر برساتی مینڈکوں کی طرح ٹرّا ٹرّا کر دماغ خراب کرکے رکھ دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اس کے حکیم الامت اشرفعلی تھانوی کا فرمان دکھانا چاہتا ہوں،کہتا ہے: 

” بدعتی لوگ ہمیشہ دوسروں ہی پر اعتراض کرنے میں مشغول رہتے ہیں مگر کوئی مفید بات یا کام کبھی نہیں کرتے ان کے یہاں چند چیزیں ہیں جن کو مایہ ناز سمجھتے ہیں مگر دین ان میں بھی نہیں ہوتا نہ فہم سے کام لیتے ہیں “

(ملفوظات حکیم الامت ،جلد ۴،ص ۱۶۰)


لہذا اپنے اصول اور اپنے کرتوت سے یہ شیطانی گروہ خود ہی "بدعتی" بھی ثابت ہوتے ہیں۔ اور یہ لوگ اعتراض اس وجہ سے بھی کرتے پھرتے ہیں کہ یہ شیطانی گروہ اتنے غبی اور احمق ہوتے ہیں کہ ان کو علماء اہلسنت کی بات تو دور اپنی ہی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ جیساکہ الیاس گھمن دیوبندی کہتا ہے: 

” اصل مسئلہ تو سمجھنا ہے۔ سمجھانا اگلا مسئلہ ہے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے حضرات کو اپنی بات سمجھ میں آ جائے “ (خطباتِ برما، ص ٩٩) 

حد تو یہ ہے کہ اس شیطانی گروہ کے حکیم الامت اشرفعلی کو بھی اپنے ہی لکھے ہوئے مضامین سمجھ میں نہیں آتے تھے۔ چنانچہ اشرفعلی تھانوی کہتا ہے: 

” بعض مضامین میرے لکھے ہوئے،میرے ہی سمجھ میں نہیں آتے “

(تالیفاتِ اشرفیہ، ص ۵) 

تو جس شیطانی گروہ کے خاص و عام کا اور ان کے سرغنہ کا یہ حال ہو کہ اپنی ہی بات اور اپنے ہی لکھے مضامین نہیں سمجھ پاتے ہوں وہ اور اس کے حصے میں آئے ہوئے بے وقوف علماء و جہلا، علمائے اہلسنت کی بات کیا خاک سمجھ پائیں گے؟ اور جب بات سمجھتے نہیں ہیں تو اپنی بدفہمی سے جو دل د ماغ میں آتا ہے اعتراض کر بیٹھتے ہیں۔ 

یاد رہے بقول بانیٔ دینِ دیوبندیت قاسم نانوتوی میلاد "حبِّ رسول ﷺ کے بڑے درجے" کو حاصل کرنے والے ہی کرتے ہیں۔ جیساکہ اشرفعلی تھانوی کہتا ہے: 

” حضرت مولانا محمد قاسم سے کسی نے کہا کہ میرٹھ کے مولانا عبد السمیع صاحب بیدل بکثرت میلاد پڑھتے اور پڑھواتے ہیں آپ کیوں نہیں کرتے۔ فرمایا کہ بھائی ان کو "حبّ رسول ﷺ کا بڑا درجہ حاصل ہے دعا کرو مجھے بھی وہ حاصل ہو جائے “

 (ملفوظات حکیم الامت ،جلد ٢٤،ص ١١٧)


مگر سننے والے نے قاسم نانوتوی اور اس کے قائم کردہ دینِ دیوبندیت کے متبعین کے لیے "حبِّ رسول ﷺ" کے لیے نہ دعا کی، اور نہ یہ لوگ میلاد کرتے ہیں۔ کاش کہ اس نے دعا کر دی ہوتی تو اس قوم کو بھی حب رسول ﷺ حاصل ہو جاتا اور یہ لوگ بھی میلاد کرنے لگتے۔۔۔ 

دیوبندیوں کے امیر المؤمنین فی الحدیث یونس جونپوری دیوبندی کہتے ہیں: 

” میلاد خوانی کو ہمارے اکابر منع کرتے تھے ،مگر بعض جگہ یہی میلاد ضروری ہو جاتا ہے ۔ یہی ایمان بچاتا ہے، میلاد کے قائل حافظ ابن حجر عسقلانی،محمد بن یوسف الشانی اور صاحب السیرۃ الشامیہ رحمہم اللہ جیسے اکابر تھے “

 (ملفوظات مع مختصر سوانح حیات شیخ محمد یونس صاحب، صفحہ ٧٧)


اب بھی اگر دیوبندی اسی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہتے ہیں تو بس یہی کہا جا سکتا ہے 

ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ ولھم عذاب عظیم 

اور شیطانی گروہ کے تمام تر جہلا و علماء جو ہم اہلسنت سے جشنِ عید میلاد النبی ﷺ (اور اس کے انتظامات مثلاً جھنڈے لائٹنگ وغیرہ) پر قرونِ ثلاثہ سے موازنہ کرکے بعینہٖ کرنے کا ثبوت مانگتے ہیں اور جہالت آمیز تحریریں لکھتے ہیں جس کا علماء نے بار بار ہزاروں بار دلائل و براہین کے ساتھ کافی و شافی جوابات دیئے ہیں مگر کتے کی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی کے مصداق بن کر جہالت پر جہالت کرتے رہتے ہیں، اس لیے ان سب سے میرا کہنا ہے : 

تم دشمنِ رسول کا کون سا کام ہے جو بعینہٖ قرونِ ثلاثہ جیسا ہے؟؟؟؟ 

کیا تمہارے مدا رس اور ان کے تام جھام (یعنی ان کے انتظامات میں جو کچھ کرتے ہیں) کا ثبوت قرونِ ثلاثہ سے ہے؟ 
تمہاری سیرت النبی ﷺ کانفرنس اور اس کے تام جھام کا ثبوت قرونِ ثلاثہ سے ہے؟ 
تمہاری مساجد اور اس میں اپنے آرام اور نام و نمود کے لیے جو تام جھام کر رکھے ہیں اس کا ثبوت قرونِ ثلاثہ سے ہے؟ 
تمہاری تبلیغی جماعت اور اس کے تام جھام کا ثبوت قرونِ ثلاثہ سے ہے؟ 
تمہارے مناظرے اور اس کے تام جھام کا ثبوت قرونِ ثلاثہ سے ہے ؟ 
تمہاری شادی اور اس کے تام جھام کا ثبوت قرونِ ثلاثہ سے ہے؟
تمہاری عاشقی کا اڈا خانقاہ اور اس کے تام جھام کا ثبوت قرونِ ثلاثہ سے ہے؟
تمہاری عیدیں اور اس کے تام جھام کا ثبوت قرونِ ثلاثہ سے ہے؟ 
تمہارے چندے کے دھندے اور اس کے تام جھام کا ثبوت قرونِ ثلاثہ سے ہے ؟

تمہارےایسے بے شمار کام اور معمولات ہیں جن کا بعینہٖ ثبوت قرونِ ثلاثہ سے تم کیا تمہارے اکابرین جو مر کر مٹی میں مل گئے وہ بھی تمہارے اصول کے مطابق نہیں دے سکتے ہیں۔پھر کس منہ سے جشنِ میلاد النبی ﷺ پر قرونِ ثلاثہ سے ثبوت مانگتے ہو؟؟؟

شرم تم کو مگر نہیں آتی 


Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)